بنگلورو، 16/اپریل(ایس او نیوز)بنگلور وشہر کے مختلف مقامات پر فیر پرائس شاپ میں راشن کارڈ مستفیدین کے لئے انا بھاگیہ اسکیم کے تحت چاول کی تقسیم میں دھوکہ کیا جارہا ہے،لیکن محکمہ غذا کے افسران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
اطلاع کے مطابق مرکزی حکومت کی”پردھان منتری غریب کلیان“اسکیم کے تحت عوامی تقسیم کاری نظام کے تحت امسال یکم جنوری سے ریاست کے بی پی ایل اور انتیودیا راشن کارڈ ہولڈرس کے لئے فی کلو5کلو چاول تقسیم کئے جارہے ہیں۔اسکے ساتھ ریاستی حکومت کی جانب سے یکم فروری سے افزود 1کلو چاول تقسیم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں،اسی طرح کل6کلو چاول تقسیم کئے جائیں گے۔
تاہم الزام لگایا جارہا ہے کہ گاندھی نگر،کوٹگے پالیہ،پینیا،رام مورتی نگر، مڈیوال، ماگڑی روڈ، گووند راج نگر،سنکد کٹے،سنجے نار،شری رام پورہ سمیت مختلف مقامات پر مرکز او ر ریاستی حکومتوں کی جانب سے تقسیمِ چاول میں کم سے کم3تا4 کلو کٹوتی کی جارہی ہے۔ یہ الزام لگا یا جارہا ہے کہ چند مقامات پر فیر پرائس شاپ(راشن دکان) کے مالکان مستفیدین سے ہر راشن کارڈ کے لئے 10 روپئے غیر قانونی طو پر وصول کررہے ہیں۔ ماگڑی روڈ،گاندھی نگر کے افراد نے الزام لگایا ہے کہ چند فیر پرائس شاپ کے مالکان5 اراکین پر مشتمل خاندان کو30کلو چاول تقسیم کرنا ہے لیکن صرف20تا25کلو چاول تقسیم کر رہے ہیں اور صرف ایک کلو شکر یا دال دی جارہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ غریبوں کے ساتھ اس نا انصافی کے تعلق سے محکمہ غذا کے حکام کو ئی کارروائی نہیں کررہے ہیں۔
بتا یا جا تا ہے کہ ریاست میں موجود10 لاکھ91 ہزار508انیتو دیا کارڈس موجود ہیں، جس سے44لاکھ83 ہزار 745 مستفیدین ہیں۔اسی طرح 1کروڑ15 لاکھ93 ہزار 227بی پی ایل کارڈس ہولڈرس ہیں اور 3کروڑ87 لاکھ79 ہزار975 مستفیدین استفادہ کر رہے ہیں،اسی طرح کل4 کروڑ32 لاکھ 63ہزار 720 مستفیدین ہیں،جس کے لئے قومی غذائی تحفظ ایکٹ کے تحت ہر ماہ فی یونٹ6کلو چاول تقسیم کئے جارئے ہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے ہر ماہ فی یونٹ5کلو چاول کے حساب سے کل2.17لاکھ میٹرک ٹن چاول تقسیم کئے جارہے ہیں،اس طرح ریاستی حکومت کی جانب سے فی ایک کلو چاول کے حساب سے 4.32 کروڑ سے زیادہ چاول تقسیم کئے گئے ہیں۔ سرکاری راشن تقسیم کاروں کی تنظیم کے صدر ٹی کرشنپا نے بتا یا کہ فیر پرائس شاپ کے مالکان میں سے صرف5تا6فیصد ہی اس طرح کے گھپلہ میں ملوث ہیں،اس سلسلہ میں شکایت کے باوجود افسران کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مناسب وزن نہ کرنے والے مالکان کے خلاف کارروائی کر تے ہو ئے لائسنس رد کیا جائے، ورنہ افسران کے خلاف ہی کارروائی کی جائے۔